وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور 2.0 کے روڈ میپ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے تمام وزارتوں کو اگست 2023 میں چین کے صدر شی جن پنگ کے تجویز کردہ 5 کاریڈورز پر جلد از جلد کنسپٹ پیپرز تیار کرنے کی ہدایات دی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان اور چین نے سی پیک فیز 2 کے تحت ان پانچ اقتصادی راہداریوں پر جلد از جلد کام شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ سی پیک فیز 2 کے تمام منصوبے ان پانچ نئے کاریڈورز کے مطابق تیار کئیے جائیں۔
ان پانچ نئے کاریڈورز میں گروتھ، لائیولی ہڈ ، انوویشن، گرین ریولوشن، اور ریجنل کنیکٹیویٹی شامل ہیں۔ یہ پانچوں کاریڈورز پاکستان کے اقتصادی ترقی کے فریم ورک "فائیو ای ایز" سے مطابقت رکھتے ہیں۔
کاریڈور برائے لائیولی ہوڈ کے تحت عوام کو بہترین سہولیات فراہم کرنا اور ملازمت کے مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔انوویشن کاریڈور کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نئے منصوبوں کا انعقاد اور نوجوانوں کو آئی ٹی میں مہارت دینا شامل ہے۔اوپن ریجنل کوآپریشن کے تحت سی پیک کو سنٹرل ایشیا سے روابط کے فروغ اور دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے ہدایت دی کہ اگست کے آخر تک ان پانچ کاریڈورز پر جامع دستاویز تیار کی جائے۔مذید یہ کہ تمام وزارتیں سی پیک پورٹ فولیو کے تحت پانچ سالہ منصوبے تیار کریں جنہیں مشترکہ ورکنگ گروپ میں پیش کیا جائے تاکہ انہیں آئیندہ جی سی سی میں سی پیک کے دائرہ کار میں شامل کیا جا سکے۔
پروفیسر احسن اقبال نے ہدایت دی کہ ستمبر میں زیادہ سے زیادہ جوائنٹ ورکنگ گروپس کے اجلاس منعقد کیے جائیں۔ ان منصوبوں کا مقصد صنعتی و تجارتی ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہونا چاہیے۔
جناب احسن اقبال نے کہا کہ طویل المدتی منصوبوں کو ہر شعبے کے لحاظ سے بریک اپ کر کے ورکنگ گروپس میں شامل کیا جائے اور یہ کہ تمام وزارتیں اگلے پندرہ دنوں میں سی پیک کے باقاعدہ پلان تیار کر کے پیش کریں۔ مشترکہ ورکنگ گروپ کے ایجنڈے اور مجوزہ منصوبوں کے انتخاب کے لیے ہفتہ وار میٹنگز منعقد کی جائیں۔ اجلاس میں سیکرٹری منصوبہ بندی جناب اویس منظور سمرا سمیت متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز، اداروں کے سربراہان اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔







