Islamabad: 29th May 2025: Pakistan and China reaffirm commitment to CPEC 2.0; unlocking new frontiers in regional connectivity, agricultural innovation, and strategic infrastructure.
Highlights from the Luncheon Hosted by Federal Minister Ahsan Iqbal Chaudhary for Chinese Ambassador Jiang Zaidong
CPEC 2.0: From Planning to Performance
Minister Ahsan Iqbal emphasized fast-tracking projects under the next phase of CPEC. Gwadar Port is now fully connected to the national grid—marking a milestone toward regional integration and economic transformation.
Agricultural Cooperation: Seeding a Food-Secure Future
The first cohort of Chinese-sponsored agri-graduates is undergoing specialized training in Pakistan. Meanwhile, Chinese-donated agricultural machinery is being rapidly distributed across provinces to boost institutional capacity and uplift farmers.
Strategic Connectivity: KKH Phase II & ML-1
Urgency stressed on launching the Karakoram Highway upgrade and Main Line-1 railway project was described as “strategic arteries” of Pakistan’s economic future.
Livelihoods Corridor & Small Dams in Balochistan
China expressed readiness to support small dam projects under CPEC’s Livelihoods Corridor to enhance water access and rural development.
Academic Linkages
New proposals include institutional partnerships between Chinese universities and Pakistan’s Daanish University & Jinnah Medical Complex to deepen people-to-people ties.
Industrial Revival: Naphtha Cracker Complex
Minister Iqbal proposed reviving plans for this key industrial initiative, welcomed by the Ambassador with a commitment to facilitate further dialogue.
Next Steps: 14th JCC in July 2025
Both sides agreed on a results-oriented approach to elevate bilateral cooperation during the upcoming Joint Cooperation Committee meeting.
“CPEC is not just an economic project—it’s a shared destiny.” Said Prof. Ahsan Iqbal
اسلام آباد: 29 مئی ٢٠٢٥: وفاقی وزیر احسن اقبال کا چینی سفیر کے اعزاز میں ظہرانہ — گوادر پورٹ، سی پیک 2.0، زرعی تعاون اور جے سی سی اجلاس پر تفصیلی گفتگو
وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے آج اپنے گھر پر چین کے سفیر جناب جیانگ زائی ڈونگ کے اعزاز میں خصوصی ظہرانہ دیا۔ اس موقع پر چینی وفد میں منسٹر کاؤنسلر یانگ گوانگوان، شو ہانگتیان، یانگ داپنگ اور وانگ جِنگ جیُو بھی شامل تھے۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوستی، اعتماد اور اشتراک عمل پر زور دیا گیا۔ چین کے سفیر نے خطے میں امن و استحکام کی واپسی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور بحران کے دوران چین کی مستقل حمایت پر وفاقی وزیر نے اظہارِ تشکر کیا۔
ملاقات میں درج ذیل اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا:
گوادر پورٹ کو قومی گرڈ سے مکمل طور پر منسلک کر دیا گیا ہے، جسے وفاقی وزیر احسن اقبال نے خطے کی خوشحالی کا دروازہ قرار دیا۔
سی پیک کے تحت جاری اور آئندہ منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے پر اتفاق۔
جولائی 2025 میں ہونے والے 14ویں جائنٹ کوآپریشن کمیٹی (JCC) اجلاس کی تیاریوں پر گفتگو؛ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس “منصوبہ بندی سے عملدرآمد” کی طرف اہم قدم ہوگا۔
چین کی جانب سے “اُڑان پاکستان” وژن کے تحت مکمل حمایت کی یقین دہانی۔
گوادر کو وسطی ایشیا اور افغانستان سے جوڑنے کی تجویز، تاکہ علاقائی منڈیوں تک رسائی ممکن ہو سکے۔
چینی اسکالرشپ یافتہ پاکستانی زرعی گریجویٹس کی تربیت جاری؛ انہیں زرعی معیشت کی جدیدیت کا محرک قرار دیا گیا۔
چین کی جانب سے عطیہ کردہ زرعی مشینری کی ملک بھر میں بروقت تقسیم؛ جس سے تحقیقی اداروں اور کسانوں کو براہ راست فائدہ ہوگا۔
قراقرم ہائی وے (KKH) فیز II اور مین لائن 1 (ML-1) منصوبے فوری شروع کرنے کی ضرورت پر زور؛ انہیں پاکستان کے معاشی مستقبل کی “اسٹریٹجک شہ رگیں” قرار دیا۔
پاکستانی دانش یونیورسٹی اور جناح میڈیکل کمپلیکس کے لیے چینی جامعات و اداروں کے ساتھ تعلیمی روابط کی تجویز۔
نَفتھا کریکر کمپلیکس جیسے اسٹریٹجک صنعتی منصوبے کی بحالی کی تجویز؛ چینی سفیر نے بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔
بلوچستان میں لائیولی ہڈز کوریڈور کے تحت چھوٹے ڈیمز کی تعمیر میں چین کی دلچسپی؛ وفاقی وزیر احسن اقبال نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
❞اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک صرف دو طرفہ شراکت داری نہیں بلکہ مشترکہ تقدیر کی علامت ہے۔ اس کے ذریعے ہم انفراسٹرکچر بنا رہے ہیں، کمیونٹیز کو بااختیار بنا رہے ہیں، اور ایک روشن و مربوط مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں،
اس موقع پر سیکریٹری منصوبہ بندی جناب اویس منظور سمرا، وائس چانسلر PIDE ڈاکٹر ندیم جاوید، پراجیکٹ ڈائریکٹر جاوید سکندر اور ریجنل کنیکٹیوٹی اسپیشلسٹ ڈاکٹر مزمل ضیاء بھی شریک تھے









