News Image

Islamabad (25 April 2017): Federal Minister for Planning, Development and Reform, Prof. Ahsan Iqbal said that Pakistan has achieved an economic growth rate of 5 percent and  with political stability، world’s key investors are eying Pakistan as a potential investment market. He expressed these views on Tuesday while addressing the participants of 106th National Management Course who visited Planning Commission as part of their Inland Study Tour.

Prof. Ahsan Iqbal said that initiation of CPEC was a watershed moment in the history of Pakistan that has elevated country’s status as potential regional economic power. He told the participants that Pakistan needs to benefit from opportunities being offered by CPEC and transform its economy to a modern industrial economy. He further said that lack of proper leadership and power politics has hindered Pakistan’s progress and therefore we must learn from our past mistakes.

Minister briefed the participants that global political landscape is changing sharply and inward political approach is being followed by west in US, UK and Europe. In contrast, China is promoting regional and global connectivity across the Asia Pacific region as part of its One Belt One Road initiative. In the same vein, Pakistan’s Vision 2025 enables Pakistan to leverage its geo-strategic location and explore the economic options offered therein. Professor Iqbal said that CPEC is a fusion of Pakistan’s vision 2025 and One Built One Road initiative.

Stressing the importance of Pakistan’s geographical location, he said that CPEC would physically and economically integrate Pakistan with China, Central Asian Republics and Eurasian region under the wider framework of One Belt One Road (OBOR) and Pakistan vision 2025. He noted that CPEC and One Built One Road would collectively transform and improve the lives of three billion people which rightly sets the context of this mega regional initiative as “Game Changer” in the region.

He said that CPEC has changed world narrative about Pakistan. “The country which was ranked as most dangerous country of the world is now termed as emerging economy”. Pakistan is labeled as a safe haven for billion dollar Chinese investment, he added.  

Explaining the breakdown of Chinese investment under CPEC, he stated that the US$35 billion investment under Energy Portfolio is being done in Independent Power Producer’s (IPP) Mode which is being regulated by NEPRA. He further said that CPEC energy projects would generate 14-15000 megawatts of electricity which would help overcome the prevailing energy crisis. CPEC energy portfolio includes coal, hydel and renewable energy projects. The present government for the first time opted for utilization of untapped black gold to generate electricity on much cheaper rates which would support to rise in export, he added.

He dispelled the impression that coal power plants would create environmental hazards, saying that Pakistan is using super critical modern technology which reduces hazardous emissions.   

Professor Ahsan Iqbal urged the participating civil service officers to put in their best efforts in serving the country. He emphasized that officers should use their best abilities in policy formulation and implementation in their respective departments.

On this occasion, Additional Secretary Ministry of Planning, Development and Reform, Mr. Zafar Hassan welcomed the participants and provided detailed answers to their questions. He told the participants that CPEC Long term plan sets the scope for development of agriculture and other sectors under CPEC framework. He further said that Board of Investment is preparing a comprehensive package for industries which would be furnished shortly.

“The package would support to implement the plan of establishing special economic zones” he said, adding that all the provincial governments are fully onboard to make this sector a success story.

Project Director CPEC, Mr. Hassan Daud Butt gave a detailed briefing on CPEC to participants. He apprised the participants that work in energy and infrastructure projects are being undertaken at a faster pace. He further said that CPEC Long Term Plan has been prepared after an extensive consultative process with all stake holders and it will be approved shortly.      

سیاسی استحکام کی بدولت پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا آغاز ہوا ہے ،وفاقی وزیر احسن اقبال 
پاکستان کا شرح نمو بڑھ کر 5 فیصد تک پہنچ گیا ہے، دنیا کے بڑے معاشی اداروں نے یہاں سرمایہ کا ری کا آغاز کردیا ہے،  حکومتی اقدامات سے ملکی معیشت کو استحکام حاصل ہوگا، وفاقی وزیر 
چینی صنعتوں کے منتقلی سے یہاں ملازمتوں کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے، سی پیک کی بدولت پیدا ہونے والے مواقعوں سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو صنعتی ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے، 106منجمنٹ کورس کے شرکاء سے خطاب
اسلام آباد ، 25 اپریل 2017:  وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال  نے کہا ہے کہ پاکستان کا شرح نمو 5 فیصد تک پہنچ گیا ہے اور دنیا کے بڑے معاشی اداروں  نےیہاں سرمایہ کاری شروع کردی ہیں،  ملک میں سیاسی استحکام  کی بدولت مستقبل میں  بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری  متوقع ہے۔
انہوں نےان خیالات کا اظہار  منگل کو پلاننگ کمیشن اسلام آباد میں 106 منجمنٹ کورس کے شرکاء سے خطاب کے دوران کیا، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری، پائیدار ترقی اور پیداواری صلاحیتوں میں جدت لانے کی وجہ سے ملکی  معیشت کو استحکام حاصل ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ چینی صنعتوں کے منتقلی سے یہاں ملازمتوں کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے، سی پیک کی بدولت پیدا ہونے والے مواقعوں سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو صنعتی ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے، یہاں سیاسی رسہ کشی اور قیادت کا فقدان معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا رہا ہے ، مگرہمیں اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہئے، مزید مواقع ضائع کرنے کی گنجائش نہیں۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے مزید کہا کہ یورپ اور امریکہ گلوبلائزیشن سے واپسی کا راستہ اختیار کرکے اپنی معیشت کو مقامی خطوط  پراستوار کررہی ہیں جبکہ اس کے برعکس چائنہ متبادل کے طور پر سامنے آیا  ہےاور علاقائی روابط استوار کرکے نئے منڈیوں کی تلاش کررہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ویژن 2025 کے تحت جغرافیائی حالات سے مستفید ہوکر پاکستان کو جیو اکنامک خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کررہے ہیں، چین پاکستان اقتصادی راہداری ون بلٹ ون روڈاور ویژن 2025 کا فیوژن ہے، ان کا کہنا تھا کہ 2013 سے قبل پاکستان  کی شناخت دنیا کےخطرناک ترین ملک کے طور پر کی جاتی رہی، مگر سی پیک کے بعد پاکستان کو بلین ڈالرز چینی سرمایہ کاری کیلئے جنت قرار دیا گیا، آج مغربی میڈیا پاکستان کو نئی ابھرتی ہوئی معیشت  کے طور پر پیش کررہا ہے۔
سی پیک کے تحت چینی سرمایہ کاری کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ چین انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کررہاہے، توانائی کے شعبے میں  ہونے والی 35بلین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی پی پی موڈ میں کی جارہی ہے جس قرض کہنا درست نہیں ہوگا، انہوں نے کہا کہ  موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ  پاکستان کے بلیک گولڈ یعنی کوئلے کے استعمال کا فیصلہ کیا ، مقامی کوئلے پر انحصار کی وجہ سے سستی بجلی دستیاب ہونے کے علاوہ برآمدات کی شرح میں اضافہ ہوگا، انہوں نے مزید بتایا کہ انفراسٹرکچر کے شعبے میں 11ارب ڈالر آسان شرائط پر قرضوں کے مد میں دیے گئے ہیں جس کی ادائیگی  20 سالوں میں ہوگی، کوئلے کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگے کے خدشات بارے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پوری دنیا میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال ہورہی ہے ، کوئلے سے بجلی بنانے کیلئے پاکستان میں جدید اور سپر کرٹیکل ٹیکنالوجی پلانٹس لگ رہے ہیں جس سے ماحول کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا، انہوں نے سول سروسز میں شامل افسران پر زور دیا کہ وہ   ملک میں اصلاحات اور پائیدار ترقی کیلئے دن رات ایک کرکے کام کریں ۔
 اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات ظفر حسن نے شرکاء کی جانب سے پوچھے گئے متعدد سوالات کے تفصیلی جوابات دیے ، انہوں نے بتایا  کہ سی پیک کے تحت لانگ ٹرم میں زراعت اور دیگر شعبوں کو ترقی دینے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے تحت صنعتی ترقی کیلئے بورڈ آف انوسٹمنٹ  ایک مکمل پیکج پر کام  کررہا ہے جس کو جلد ہی حتمی شکل دے دی جائے گی، اس پیکج کی منظوری سےپاک چین صنعتی تعاون کا مرحلہ عملی شکل اختیار کرے گا، انہوں نے بتایا کہ  خصوصی اقتصادی زونز کو کامیاب بنانے کیلئے صوبائی حکومتوں  کیساتھ مل کر کام ہورہا ہے۔
اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر سی پیک حسان داود بٹ نے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی جس میں سی پیک کے تحت جاری منصوبوں اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا، حسان داود بٹ نے بتایا کہ تمام منصوبوں پر انکے شیڈول کے مطابق کام جاری ہے، انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں کے بعدصنعتی تعاون کا سلسلہ شروع ہوگیا جس سے خوش اسلوبی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے، انہوں نے مزید بتایا کہ تمام سٹیک ہولدرز کی مشاورت سے سی پیک  لانگ ٹرم پلان تیار کرلیا گیا ہے جس کی باقاعدہ منظوری جلد متوقع ہے۔