News Image
News Image 1
News Image 2
Beijing, China: April 12, 2018: Minister for Planning, Development & Reform / Interior, Mr. Ahsan Iqbal said that at a time when the world is witnessing slowdown in growth, Belt and Road Initiative (BRI) comes as a breath of fresh air.
 
He was addressing the concluding session of Belt and Road Trade & Investment Forum " Unleashing the Potential for Shared Future on 12th April 2018 in Beijing, China".
 
Minister said that we are living in the most interesting times of human civilisation as never in the history, any generation has seen so many opportunities that we are being witnessed. "Never in the history of mankind any generation has seen the threats that we face today," he added.
 
 
Talking about the positive impact of BRI and CPEC on Pakistan, the Minister highlighted that Pakistan was facing 16 to 18 hours of power shortages because no investment had been made in the past 14 years in the most critical infrastructure, which is needed for a modern economy. 
 
We started our journey in 2013, within one year we were able to have our understanding on a portfolio of $46 Billion, of which $35 Billion were allocated for energy projects – not as a loan but as a business proposition for Chinese investors to invest and for Pakistan to have investment, he added. Today we seek energization of more than $27 Billion worth of projects from this portfolio, the Minister maintained. 
 
Speaking on the mutual incentives and benefits for both countries, Mr. Iqbal mentioned that under CPEC industrial cooperation, Chinese investments, technology as well as low cost of production can create a win-win platform to take advantage of the new supply logistic chain. 
 
It also offers great opportunities, he added, for Chinese enterprises to still be competitive by taking advantage of low cost of production. For Pakistani businesses it provides a great opportunity to form Joint Ventures (JVs) to produce local jobs and introduce new industries in the economy. 
 
This spirit of shared prosperity, which is the fundamental goal of the BRI, is creating partnerships not just at government-to-government, but also at business-to-business level, the Minister reiterated.
News Image 3
بیجنگ ۔ 12 اپریل 
 
وفاقی وزیر داخلہ، منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا میں اقتصادی ترقی کی رفتار سست روی کا شکار ہے، بیلٹ اور روڈ منصوبہ تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا ہے۔ وہ جمعرات کو بیجنگ میں منعقدہ بیلٹ اینڈ روڈ ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ فورم کے اختتامی سیشن سے ”مشترکہ مستقبل کیلئے مواقع“ کے موضوع پر خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ انسانی تہذیب کے ایک دلچسپ زمانے میں رہ رہے ہیں، تاریخ میں کبھی بھی کسی نسل نے اتنے زیادہ مواقع نہیں دیکھے جو کہ ہم دیکھ رہے ہیں، تاریخ میں کسی بھی انسانی نسل نے اتنے زیادہ خطرات کا سامنا نہیں کیا جن کا سامنا ہمیں ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور سی پیک کے اثرات کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ 14 سالوں میں انفراسٹرکچر کے شعبہ میں سرمایہ کاری نہیں کی گئی جو کہ ایک جدید معیشت کیلئے ضروری تھی۔ پاکستان کو یہ سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث 16 سے 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، 2013ءمیں ہم نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس معاملہ پر توجہ دی اور ایک سال کے اندر 46 ارب ڈالر کے منصوبوں میں سے 35 ارب ڈالر توانائی کے منصوبوں کیلئے مختص کئے گئے، اتنی بڑی لاگت کے یہ منصوبے کوئی قرضہ نہیں بلکہ یہ چینی سرمایہ کاروں کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 ارب ڈالر سے زائد کے منصوبوں پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ پروفیسر احسن اقبال نے دونوں ممالک کے باہمی مفاد کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک صنعتی تعاون، چینی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور مصنوعات کی کم لاگت سے تیاری سے پاکستان اور چین دونوں استفادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کیلئے بہترین موقع ہے کہ وہ پیداوار کی کم لاگت سے استفادہ کرتے ہوئے سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور پاکستانی کمپنیوں کیلئے بھی بہترین موقع ہے کہ وہ ملک میں نئی صنعتیں قائم کریں اور چینی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے مقامی سطح پر ملازمت کے مواقع پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کا بنیادی مقصد مشترکہ خوشحالی ہے اور اس کے تحت نہ صرف حکومتوں کے درمیان بلکہ کاروباری کمپنیوں کے مابین اشتراک کار قائم کرنا ہے۔